سلائیڈفتویکتابیںنیا

السیف البتار علی شاتم خیر الأبرار- مفتی صلاح الدین حفظہ اللہ

شاتم رسول کے بارے میں مذہب حنفی کے مطابق مختصر جامع فتوی
المسمی بـ

السیف البتار علی شاتم خیر الأبرار

جمع و ترتیب از – مفتی صلاح الدین حفظہ اللہ

 

آرکائیو سے ڈاؤنلوڈ کریں

DOWNLOAD PDF DOWNLOAD DOCX

میگا سے ڈاؤنلوڈ کریں

DOWNLOAD PDFDOWNLOAD DOCX

میڈیا فایر سے ڈاؤنلوڈ کریں

DOWNLOAD PDFDOWNLOAD DOCX


 

شاتم رسول کے بارے میں مذہب حنفی کے مطابق مختصر جامع فتوی

المسمی بـ”السیف البتار علی شاتم خیر الأبرار

فتوے کے بارے میں علمائے کرام کی آراء :

فضیلۃ الشیخ مفتی ابو البطال ناصر الحق خان صاحب حفظہ اللہ(ناظم اعلی فاروقی دار الافتاء) کی رائے:

حضرت مفتی صلاح الدین حفظہ اللہ نے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ایک جامع کتابچہ مرتب فرمایا ہے جسے اس گنہگار کو بھی دیکھنے کا موقع ملا ماشاء اللہ یہ کتابچہ اپنے موضوع پر منفرد اور سیر حاصل مواد پر مشتمل ہے ہرمسلمان کو اسے مطالعہ میں رکھن اچاہیے اسکی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ذمی اور حربی کفار کی گستاخیوں کی شرعی سز ادلائل کے ساتھ مبرہن کی گئ ہے اور فقہ حنفی کے دلائل کے ذریعہ اس پر تفصلی روشنی ڈالی گئ جس سے اس دور کے مسلمانوں کے خلجان اور شکوک شبہات دور ہوں گے اور گستاخ رسول کو کیفرکردار تک پہنچانا آسان ہوگا یہ بندہ عاصی دعا گوہے اللہ اس کتابچہ کو مفید سے مفید تر بناے اور ہمارے عزیز مفتی صلاح الدین حفظہ اللہ کے علمی فیضان کو مزید ترقیات سے ہمکنار فرماے حق کاجو کام وہ اس وقت کر رہے ہیں اس میں انہیں کامیابی عطا فرماے ہر طرح کے شرور وآفات اور ہرقسم کے دشمنوں سے انکی مکمل حفاظت فرماے ھذا ما عندی واللہ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

خاکسار ناصرالحق خان

۳/رمضان المبارک ؁۱۴۴۲ ھ۱۶ اپریل ؁۲۰۲۱ ء

فضیلۃ الشیخ مفتی معین الدین نعمانی حفظہ اللہ ( بانی نعمانی دار الافتاء گروپ) کی رائے گرامی:

جہاں تک مجھے علم ہے اس تحریر میں وہ سب کچھ آگیا جسکی ہر خاص و عام کو ضرورت تھی الحمد للہ اس مختصر سے فتویٰ میں صلاح الدین صاحب نے شاتم رسول کی سزا اور کس حالت میں اسکے ساتھ کیا کیا جائے الحمد للہ مکمل و مدلل بالتفصيل آپ نے بیان فرمایا دیا ہے

ضرورت ہے عمل پیرا ہونے کی۔

اللہ رب العزت آپ کی محنتوں کو قبول فرما کر ذریعہ نجات بنائے اور امت مسلمہ کے ہر طبقہ کو استفادہ کی توفیق عطا فرمائے

معین الدین نعمانی مظفّر نگری

منتظم نعمانی دارالافتاء گروپ

فضیلۃ الشیخ مفتی امتیاز انصاری حفظہ اللہ ( ناظم اعلی دار الافتاء بھاٹا باری، استاذ جامعہ اسلامیہ کنکپور) کی رائے:

الحمد للہ مذکورہ فتوی مختصر و جامع ہونے کےساتھ ساتھ مفید عام و تام بھی ہے اللہ تعالیٰ مفتی صلاح الدین قاسمی صاحب کی کاوش کو قبول کرے اور نجات آخرت کا ذریعہ بنائے۔

امتیاز انصاری

استاذ, جامعہ اسلامیہ مظاہر العلوم کنکپور پانسکوڑا

آرایس پوربا مدنا پور مغربی بنگال۔

شاتم رسول کے بارے میں مذہب حنفی کے مطابق مختصر جامع فتوی

المسمی بـ”السیف البتار علی شاتم خیر الأبرار

نحمد اللہ ونستعینہ ونستغفرہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا، ونصلي ونسلم علی رسولہ، أما بعد؛

فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞

ترجمہ:

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

سورۃ الأحزاب آیت نمبر ۵۷

وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے۔

سورۃ الأحزاب آیت نمبر ۵۸

مَّلۡـعُوۡنِيۡنَ ‌ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

جن میں وہ پھٹکارے ہوئے ہوں گے۔ (پھر) جہاں کہیں ملیں گے، پکڑ لیے جائیں گے، اور انہیں ایک ایک کر کے قتل کردیا جائے گا۔

سورۃ الأحزاب آیت نمبر ۶۱

حدیث شریف میں ارشاد ہے

مَنْ بّدَّلَ دِیْنَہ فاقْتلُوہ

بخاری شریف میں حدیث آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یعنی جو شخص اپنا دین اسلام بدل کر کفر اختیار کرے اور مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔

شاتمِ رسول ﷺ کے بارے میں چند اہم سوالات اور ان کے جوابات۔

۱: شاتم رسول کے بارے میں احناف کا کیا فیصلہ ہے؟

۲: شاتم اگر ذمی ہو؟

۳: شاتم اگر مسلمان ہو؟

۴: شاتم اگر حربی کافر ہو؟

۵: اگر توبہ کرکے مسلم ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

۶: سب و شتم اگر اس کا پیشہ اور عادت ہو؟

۷: شاتم کو قتل کون کرے گا؟

۸: عہدِ نبوی میں شاتم کا قتل کون کرتا تھا؟

۹: کیا شاتم کو قتل کرنے کے لیے حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے؟ اگر حکومت قتل نہ کرے، تو کیا کرنا ہے؟

۱۰: شاتم اور دوسرے مرتد کے درمیان کیا فرق ہے؟

شاتم رسول ﷺ کے بارے میں احناف کا فیصلہ

شاتم اگر مسلمان ہو:

رسول اللہ ﷺ پر سب وشتم یا آپ ﷺ کی توہین وتنقیص کرنے والا کافر ہے، جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ” اکفار الملحدین“ میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں:

حافظ موصوف رحمہ اللہ” الصارم المسلول “ص:۲۴۳ پر فرماتے ہیں:

پس معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کی شان میں سب وشتم اور گستاخی تمام تر کفریات کا سر چشمہ اور تمام گمراہیوں کا منبع ہے، جیسا کہ انبیاء علیہم السلام پر ایمان و تصدیق دین و ایمان کی تمام تر شاخوں کی جڑ، بنیاد اور تمام تر مسائل ِہدایت کا منبع ہے۔

اکفار الملحدین“اردو:ص ۲۲۶

علامہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کتاب الخراج فصل الحکم فی المرتد عن الاسلام ص ۱۸۲ پر فرماتے ہیں:

جو مسلمان رسول اللہ ﷺ پر (العیاذ باللہ) سب وشتم کرے، یا آپ ﷺ کوجھوٹا کہے، یا آپﷺ میں عیب نکالے، یا کسی بھی طرح آپ ﷺ کی توہین و تنقیص کرے وہ کافر ہے، اس کی بیوی اس کے نکاح سے خارج ہوجائے گی۔

اکفار الملحدین “اردو ص ۱۳۷

علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

اسی ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ میں ص: ۴۸۳ پر حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(شاتمِ رسول کے کفر وارتداد کی) چٹھی دلیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال اور فیصلے ہیں، یہ اقوال شاتمِ رسول کے قتل سے متعین ہونے کے بارے میں نصِ قطعی ہیں، مثلا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان:

کہ جوشخص اللہ تعالیٰ کی شان میں، یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کی شان میں سب وشتم کرے اس کو قتل کر ڈالو‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس قول میں اس کے قتل کو متعین کر دیا۔

اکفار الملحدین“ اردو:ص ۲۱۴

دوسری جگہ علامہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی عیاضؒ شفاءمیں فرماتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ پر سب وشتم کرنے والا کافر ہے اور جو کوئی اس کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے۔

علامہ کشمیری رحمہ اللہ آگے فرماتے ہیں:

ہم حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ کے چند اہم اقتباسات اس مسئلے پر پیش کرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی عیب جوئی اور ان کی تنقیص و توہین سراسر کفر، بلکہ سب سے بڑا کفر ہے۔ علامہ موصوف نے اس کتاب میں اس مسئلے کو پورے استيعاب کے ساتھ بیان کیا ہے اور کتاب وسنت، اجماع اور قیاس سے ماخوذ دلائل و براہین سے کتاب کو بھر دیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خود تو اختیار تھا کہ چاہے سب و شتم کرنے والے کو قتل کر دیں، چاہے معاف فرما دیں، چناں چہ عہد نبوی میں دونوں قسم کے واقعات پائے گئے ہیں، لیکن امت پر شاتمِ رسول کو قتل کرنا فرض ہے، باقی اس سے توبہ کرانے یا نہ کرانے اور دنیوی احکامات کے اعتبار سے اس کی توبہ کے معتبر و مقبول ہونے یا نہ ہونے میں بے شک علماء امت کا اختلاف ہے (لیکن اس کے کافر ہو جانے میں کوئی اختلاف نہیں، یہی پوری کتاب کا حاصل ہے)

اکفار الملحدین“ اردو:ص ۲۱۳۲۱۴

شاتم اگر ذمی ہو:

آگے چل کر علامہ کشمیری رحمہ اللہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول نقل فرماتے ہیں:

لیث رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجاہد رحمہ اللہ نے مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی نقل کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کسی مسلمان نے انبیاء علیہم السلام میں سےکسی بھی نبی پر یا الله تعالیٰ پر سب و شتم کیا، اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، اور اس کا یہ فعل ارتداد ہے، اس سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا، اگر توبہ کر لی تو فبہا، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا، اور جس کسی غیر مسلم معاہد (ذمی) نے الله تعالی یا کسی بھی نبی کی شان میں سب وشتم کیا، یا اعلانیہ کوئی گستاخی کی، اس نے (اپنی اس حرکت سے، جان و مال کی سلامتی کے) عہد کو توڑ دیا، لہذا اس کو قتل کر دو۔

مثلاً ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتوی کہ :”جس غیر مسلم معاہد (ذمی) نے عناداً اللہ تعالی کی شان میں، یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کی شان میں سب وشتم کیا، یا اعلانیہ گستاخی کی، اس نے خود عہد (امان) کو توڑ دیا، لہذا اس کو قتل کر دو ۔تو دیکھو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہر اس شخص کو قتل کر دینے کا فتوی متعین طور پر دے دیا جو کسی بھی خاص نبی کی ذات پر سب و شتم کرے، یا مثلا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فرمان جو انھوں نے مہاجر کو اس عورت کے بارے میں لکھا تھا جس نے حضور ﷺ کی شان میں سب و شتم کیا تھا کہ اگر تم خود پہلے فیصلہ نہ کر چکے ہوتے تو میں تم کو اس عورت کے قتل کر دینے کا حکم دیتا، اس لیے کہ انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا عام سزاؤں کی مانند نہیں ہوتی، لہذا جو مسلمان اس جرم کا ارتکاب کرے وہ مرتد ہے، اور جو غیر مسلم معاہد (ذمی) اس جرم کا ارتکاب کرے وہ عہدشکن اور محارب ہے (اس کی جان و مال دونوں مباح ہیں)۔“ —اکفار الملحدین “اردو:ص ۲۱۵

شاتم اگر حربی ہو:

ویسے بھی حربی کافر تو پہلے سے ہی حلال الدم والمال ہے، شاتم ہونے کے بعد تو بطریقِ اولی اس کو قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، لہذا اگر کوئی حربی کافر رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور بعد میں توبہ کرکے مسلمان نہیں ہوتا ہے تو اس کی جان اور مال حلال ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔

اگر توبہ کرکے مسلمان ہو جائے، مفسد فی الارض نہ ہو اور سب و شتم اس کی عادت اور پیشہ نہ ہو تب معافی مل جانا ہی اصل ہے، کیوں کہ اسلام پہلے کیے ہوئے گناہ کو ختم کر دیتا ہے۔

شاتم رسول کی توبہ کا حکم:

شاتم رسول کی توبہ کے بارے میں علامہ کشمیری رحمہ اللہ اکفار الملحدین میں فرماتے ہیں:

شاتم رسول کی توبہ بھی مقبول نہیں: ”مجمع الانہر“ ”در مختار“ ”بزازیہ“ ”درراور خیریہمیں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کو سب وشتم کرنے والے (کافر) کی توبہ مطلقاً قبول نہیں کی جائے گی اور جس شخص نے اس کے کفر اور معذب ہونے میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔

اس کے بعد فرماتے ہیں: دنیوی احکام کے اعتبار سے تو اس کی توبہ کے قبول اور معتبر ہونے یا نہ ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہے،(بعض کہتے ہیں شاتمِ رسول کی توبہ مقبول نہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا حوالوں سے ظاہر ہے اور بعض اس کی توبہ کو قبول کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک کچھ تفصیل ہے) مگر فیما بینہ وبین اللہ اس کی توبہ مقبول ہے (یعنی اگر صدق دل سے اس نے توبہ کی اور اس پر زندگی بھر قائم رہا تو آخرت میں ان شاء اللہ سب و شتمِ ِرسول ﷺ کے عذاب اور کفر سے بچ جائے گا) لیکن خلاصۃ الفتاویمیں نقل کی گئی محیطکی عبارت کی مراجعت کرنی چاہیے کہ اس میں مشائخ حنفیہ کا قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ عند اللہ بھی شاتم رسول کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ یہ قول مجھے سوائے محیط کی عبارت کے اور کہیں نہیں ملا، ہوسکتا ہے کہ یہ ان کی غلطی ہو۔ اکفار الملحدین“ اردو:ص۱۳۷

علامہ کشمیری رحمہ اللہ نے جس اختلاف کی طرف اشارہ کیا اس کا خلاصہ یہ ہے:

اگر شاتم مسلمان ہو تو اس بارے میں ائمۂ کرام کی آراء

امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے مذہب میں نبی ﷺ کی توہین کی سزا ہر حال میں قتل کرنا ہے، توبہ سے پہلے ہو یا بعد میں، حد کے حساب سے اسے معاف نہیں کیا جائے گا، ہر حال میں قتل ہی کرنا ہوگا۔ چاہے توبہ کرے یا نہ کرے۔ اور احناف و شوافع کے مطابق توبہ سے پہلے حد جاری ہوگی اور توبہ کے بعد حد نہیں رہے گی، مطلب توبہ کے بعد معافی مل جائے گی، اگر خالص دل سے توبہ کرے اور قرائن سے بھی معلوم ہو جائے، تب قتل کرنا واجب نہیں رہے گا۔ ہاں اگر مفسد فی الارض ہو یا خبیث ترین شاتم ہو اور توبہ کو اپنے بچاؤ کی پالیسی کے طور پر اختیار کرے تو توبہ کے بعد بھی قتل کر دیا جائے گا، اور یہ قتل مفسد فی الارض کے حساب سے ہوگا، سیاستاً حد کے حساب سے نہیں ہوگا۔

تو معلوم ہوا کہ حنفی مذہب میں توبہ قبول ہے، توبہ سے پہلے تک حد ہے، کسی کے لیے معاف کرنے کی اجازت نہیں، اور بعد میں حد نہیں رہے گی، اس صورت میں معافی مل جائی گی، لیکن مفسد فی الارض ہونے پر سیاستاً قتل کیا جا ئےگا ۔

علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

نعم لو قيل إذ تكرر السب من هذا الشقي الخبيث بحيث أنه كلما أخذ تاب يقتل، وكذا لو ظهر أن ذلك معتاده وتجاهر به كان ذلك قولا وجيها كما ذكروا مثله في الذمي ويكون حينئذ بمنزلة الزنديق. (تنبيه الولاة والحكام على أحكام شاتم خير الأنام، ج1، ص335)

فإن قلت: ما الفرق بينه وبين المسلم حيث جزمت بأن مذهب أبي حنيفة وأصحابه أن الساب المسلم إذا تاب وأسلم لا يقتل؟ قلت: المسلم ظاهر حاله أن السب إنما صدر منه عن غيظ وحمق وسبق لسان لا عن اعتقاد جازم، فإذا تاب وأناب وأسلم قبلنا إسلامه. بخلاف الكافر فإن ظاهر حاله يدل على اعتقاد ما يقول وأنه أراد الطعن في الدين، ولذلك قلنا فيما مر أن المسلم أيضا إذا تكرر منه ذلك وصار معروفا بهذا الاعتقاد داعيا إليه يقتل ولا تقبل توبته وإسلامه كالزنديق فلا فرق حينئذ بين المسلم والذمي. (تنبيه الولاة والحكام على أحكام شاتم خير الأنام ، ج1، ص355)

اگر کہا جائے کہ ذمی اور مسلم میں کیا فرق ہے کہ آپ یقین کے ساتھ کہ رہے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ اگر شاتم مسلم ہو اور توبہ کرکے مسلمان ہو جائے تو قتل نہیں کیا جائے گا، بر خلاف ذمی کے کہ توبہ کرکے مسلمان ہونے کے بعد بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ظاہر سی بات کہ مسلمان نے سب و شتم کیا یا تو غصہ کی وجہ سے یا غلطی سے منھ سے ایسی بات نکل گئی، یہ اس کا عقیدہ نہیں ہے، جب وہ توبہ کرے گا اور مسلمان ہو جائے گا تو ہم اس کی توبہ قبول کر لیں گے۔

بر خلاف ذمی کے، کیوں کہ ظاہر سی بات ہے اس نے باطل عقیدے کی وجہ سے ہی سب و شتم کیا ہے اور دینِ اسلام میں طعن و تشنیع کے مقصد سے ایسا کیا ہے، اس لیے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ یہ مانا جائے گا کہ قتل سے بچنے کے لیے اس نے ایسا کیا ہے، ہم اس کی توبہ پر یقین نہیں کر سکتے ہیں۔

اس لیے ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر مسلمان بھی بارہا ایسا کرتے رہے تو ہم اسکی توبہ قبول نہیں کریں گے بلکہ زندیق کی طرح اسے قتل کر دیا جائےگا، اس صورت میں مسلم اور ذمی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

شاتم کو قتل کون کرے گا؟

کیا شاتم کو قتل کرنے کے لیے حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے؟

اگر حکومت شاتم کو قتل نہ کرے تو کیا کرنا ہے؟

عہد نبوی میں شاتم کا قتل کون کرتا تھا؟

ہر کوئی جانتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مجلس میں ہی شاتمِ رسول کو قتل کر دیتے تھے، نبی ﷺ کی اجازت کا انتظار بھی نہیں کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ ہر کوئی شاتمِ رسول کو قتل کر سکتا ہے۔

اگر ہم فرضی طور پر مان لیتے ہیں کہ شاتم کو قتل کرنا حکومت کی ذمے داری ہے تب یہ سوال ضرور آئے گا کہ حکومت اگر نہ کرے تو کون کرے گا؟ بلکہ معاملہ اگر ایسا ہو کہ حکومت خود شاتم رسول کو پناہ دیتی ہو، اس کی حفاظت کرتی ہو اور شاتم تیار ہونے کا موقع فراہم کرتی ہو، تب کیا کرنا ہے؟

خیر…… سوال یہ ہے کہ کیا شاتم کو قتل کرنے کے لیے حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے؟

جواب:شاتم کو قتل کرنے کے لیے نہ تو امام کی ضرورت ہے نہ دار الاسلام کی ضرورت ہے، بلکہ شاتمِ رسول حربی کافر ہے ہر کوئی اسے قتل کر سکتا ہے۔

شاتم اگر کافرِ اصلی ہو جیسے ہندو، نصرانی، یہودی وغیرہ تو اس کا خون تو پہلے سے ہی حلال ہے جب کہ حربی ہو، کیونکہ حربی کافر کو ہر کوئی مسلمان قتل کر سکتا ہے۔

اگر پہلے مسلمان تھا تو اب شاتم ہونے کی وجہ سے حربی کافر ہو گیا اور حربی کافر کو ہر مسلمان قتل کر سکتا ہے۔

اگر ہم سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ شاتم عورت ہو یا مرد صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کو قتل کردیا، اجازت لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، رسول ﷺ نے اس عمل پر خوشی کا اظہار فرمایا اور صحابہ کی تعریف کی، تو معلوم ہوا کہ شاتم ایسا خبیث ترین جانور ہے، جسے جیسے بھی ممکن ہو دنیا سے رخصت کردینے میں امام کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اجازت کے انتظار میں رہنا غیرتِ ایمانی کے خلاف ہے، کیوں کہ غیرتِ ایمانی اور محبتِ رسول اللہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جہاں بھی شاتم ملے، اسے قتل کردیا جائے، اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم فورا قتل کردیتے تھے، حالانکہ اس وقت رسول اللہ ﷺ باحیات تھے، شاتم کو معاف کر دینے کا حق بھی رسول ﷺ کو حاصل تھا، پھر بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اس کو معاف کریں گے یا نہیں۔

اور اب تو امت کے لیے معاف کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے، تو یہ دعوی کیسے کیا جا سکتا ہے کہ عام مسلمان کے لیے شاتم کو قتل کرنا جائز نہیں، جب کہ رسول ﷺ کے حیات رہتے ہوئے بغیر اجازت کے شاتم کو قتل کر دیا گیا اور یہ عمل قابلِ تعریف بھی ہوا، تو کسی کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ شاتم کے قتل کو امت پر حرام قرار دے؟

لیکن یہاں پر ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ فقہ کی کتابوں میں جو لکھا ہے کہ امام کے اجازت سے پہلے کسی مرتد کو کوئی قتل نہ کرے، کیوں کہ امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس طرح کی حدود قائم کرے۔ یہ بات عام مرتد کے لیے ہے، شاتم کے لیے نہیں ہے، جس کا ہم نے بھی سیرت کے حوالے سے مطالعہ کرلیا۔

عام مرتد کو بھی اگر کوئی توبہ سے پہلے قتل کر دے، تو یہ کام اچھا نہیں ہے، لیکن حرام بھی نہیں ہے، صرف امام کی حق تلفی ہوگی۔

اب دنیا میں جب ہمارا امام نہیں، تو امام کا حق بھی نہیں، لیکن جہاں مسلمانوں کے امیر ہیں اور قاضی بھی ہے اور مکمل آزادی سے شرعی حدود وقصاص کی تنفیذ کر سکتے ہیں جیسے صومالیہ ، امارت اسلامیہ افغانستان وغیرہ جیسی جگہوں میں جہاں مجاہدین کی تمکین ہے وہاں کسی عام مسلمان کے لیے کوئی سزا دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

عام مرتد کو امام کی اجازت سے پہلے قتل کرنا جائز ہے۔

اس کی دلائل۔

ابن عابدين شامی نے فرمایا:

(فإن أسلم) … (وإلا قتل) لحديث «من بدل دينه فاقتلوه» … (قوله وإلا قتل) … قال في المنح: وأطلق فشمل الإمام وغيره، لكن إن قتله غيره أو قطع عضوا منه بلا إذن الإمام أدبه الإمام. اهـ. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 226)

علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں کہ اگر مرتد اسلام قبول کرکے مسلم ہو جائے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ ورنہ اسے قتل کیا جائے گا اس حدیث کی بناء پر” من بدل دینہ فاقتلوہ“ ۔ علامہ شامی کا قول ( والا قتل) المنح میں کہتے ہیں یہاں مطلق رکھا گیا لہذا امام اور غیر امام دونوں اس میں شامل ہیں لیکن اگر غیرِ امام نے امام کی اجازت کے بغیر اسے قتل کر دیا یا کوئی بھی عضو کاٹ دیا تو امام اس قاتل کو ادبا کچھ سزا دے سکتاہے۔

بحر الرائق میں ہے:

أطلقه فشمل قتل الإمام وغيره لكن إن قتله غيره أو قطع عضوا منه بغير إذن الإمام أدبه الإمام كما في شرح الطحاوي.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 139)

ترجمہ:

ہیں یہاں مرتد کے قتل کرنے کومطلق رکھا گیا لہذا امام اور غیر امام دونوں اس میں شامل ہیں لیکن اگر امام کے علاوہ کسی اور نے امام کی اجازت کے بغیر اسے قتل کر دیا یا کوئی بھی عضو کاٹ دیا تو امام اس قاتل کو أدباً کچھ سزا دے سکتا ہے۔ (دینا ضروری نہیں۔)

فتح القدیر میں ہے:

(فإن قتله قاتل قبل عرض الإسلام عليه) أو قطع عضوا منه (كره ذلك، ولا شيء على القاتل) والقاطع (لأن الكفر مبيح) وكل جناية على المرتد هدر (ومعنى الكراهة هنا ترك المستحب) فهي كراهة تنزيه.

ترجمہ:

فتح القدیر میں ہے: اگر اس( مرتد) پر اسلام پیش کرنے سے پہلے اس کوکوئی قتل کردے یا اس کا کوئی بھی عضو کاٹ ڈالے تو یہ مکروہ ہوگا قتل کرنے والے اور عضو کاٹ نے والے پر کوئی سزا نہیں آئےگی۔ کیونکہ( اسلام کے بعد) کفر مرتد کی جان اور مال حلال کر دیتا ہے ، اور مرتد پر کوئی زیادتی کرنا ہدر ہو جائے گا (اس کی وجہ سے قاتل اور جنایت کرنے والے پر کچھ واجب نہیں ہوگا) ( اور یہاں پر مکروہ کا معنی ہے مستحب کا ترک کرنا تو یہ مکروہ تنزیہی ہوگا۔فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 71)

اور جب عام مرتد کو ہی دار الاسلام میں امام رہتے ہوئے بغیر اجازت کے قتل کرنا جائز ہے اور اجازت لینا مستحب ہے تو شاتم کی تو کوئی بات ہی نہیں اور حالت جب ایسی ہے کہ نہ دار الاسلام ہے نہ امام ہے ۔اب تو اجازت کا سوال ہی نہیں ہے ۔

اور ایک شبہ یہ ہے کہ شاتم کو قتل کرنا حد ہے اور حد قائم کرنے کے لیے امام کی ضرورت ہے، اب ہمارا امام نہیں تو شاتم کو کیسے قتل کیا جائے گا؟

اور ایک شبہ ہے کہ احناف کے نزدیک حد قائم کرنے کے لیے دار الاسلام ہونا ضروری ہے، ہم تو دار الحرب میں ہیں۔

اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ یہ بات صحیح ہے کہ حد قائم کرنے کے لیے دارالاسلام اور امام کی ضرورت ہے ہم مانتے ہیں، لیکن شاتم اور مرتد کا معاملہ کچھ الگ ہے۔

مطلب چاہے وہ شاتم ہو یا عام مرتد ہو، جیسا بھی ہو وہ کافر ہے۔

اب سوال ہے کہ کفار میں سے کون سی قسم کا کافر ہے؟

ظاہر سی بات ہے حربی کافر ہی ہوگا، کیوں کہ معاہد کافر کی تین قسمیں ہیں:

ایک: ذمی، جو کہ جزیہ کی شرط پر دار الاسلام میں رہتا ہے اور دار الاسلام کا رہنے والا ہو جاتا ہے۔

دوسرا: معاہد، دار الحرب کا رہنے والا کافر، جس کے ساتھ مسلمانوں کی وقتی طور پر جنگ بندی کی صلح ہوئی ہو۔

تیسرا: مستأمن، دار الکفر کا رہنے والا کافر، جو کہ مسلمانوں سے وقتی طور پر امان لے کر دار الاسلام میں تجارت وغیرہ کے لیے آیا ہو۔

مرتد ان تینوں قسموں میں سے نہیں ہے، تو وہ حربی کافر ہی ہوگا، بلکہ اور خبیث ترین کافر ہوگا اور اگر شاتم ہو تو پھر اور سخت ترین کافر ہوگا۔

لہذا اب اس کا قتل مسلمانوں میں سے جو کوئی بھی کر دے، کوئی حرج نہیں۔ دار الاسلام یا دار الحرب جہاں کہیں ملے، اس کو قتل کر سکتے ہیں، وہ حلال الدم ہے۔ معلوم ہوا ہم شاتمِ رسول کو حد کی بناء پر قتل نہیں کریں گے بلکہ حربی کافر ہونے کی وجہ سے قتل کریں گے۔

لأنه بالردة صار كالحربي في حكم القتل، ولكل مسلم قتل الحربي الذي لا أمان له. (شرح السير الكبير ص: 1938)

امام السرخسی شرح سیر الکبیر میں فرماتے ہیں: (مالک اپنے مرتد غلام کو قتل کر سکتا ہے) کیوں کہ وہ مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کے حکم میں حربی کی طرح ہو گیا، ہر مسلمان کے لیے ایسے حربی کافر کو قتل کرنا جائز ہے جس کا کوئی امان نہ ہو۔ (شرح السير الكبير ص: 1938)

اب سوال ہو سکتا ہے کہ مرتد اور شاتم کے درمیان کیا فرق ہے؟

اس کے جواب میں ہم کہیں گے: شاتم کا حکم عام مرتد سے سخت ہے۔ شاتم اگر عورت ہو پھر بھی قتل سے نہیں بچے گی۔ حالانکہ عام مرتد عورت اور حربی عورت کا مسئلہ الگ ہے۔

شاتم اگر عورت ہو، اس کو بھی قتل کیا جائے گا۔

عام طور پر حربی عورت کو قتل کرنا منع ہے، لیکن اگر شاتم ہو تو قتل کر دینا جائز ہے۔

امام السرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وكذلك إن كانت تعلن شتم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، فلا بأس بقتلها. (شرح السير الكبير ص: 1417)

اگر حربی کافر عورت رسول ﷺ پر سب و شتم کا اعلان کرے تو اس کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ابن عابدين شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فهو مخصوص من عموم النهي عن قتل النساء من أهل الحرب. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، رد المحتار 4/ 216)

یہ اہل حرب کی عورتوں کے قتل کی عمومِ نہی سے خاص ہے۔

شاتم اگر باپ ہو پھر بھی قتل سے نہیں بچے گا

شاتم اگر باپ ہو، پھر بھی کوئی معافی نہیں، حالانکہ مشرک باپ کو قتل کرنا منع ہے۔

ابن الہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وينبغي أنه لو سمع أباه المشرك يذكر الله أو رسوله بسوء يكون له قتله لما روي «أن أبا عبيدة بن الجراح قتل أباه حين سمعه يسب النبي صلى الله عليه وسلم وشرف وكرم، فلم ينكر النبي صلى الله عليه وسلم ذلك». (فتح القدير للكمال ابن الهمام 5/ 454)

اگر کوئی مسلم اپنے باپ کو اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں گستاخانہ بات چیت کرتے سنے تو اسے بھی قتل کر دینا جائز ہے، جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کیا تھا جو رسول ﷺ کے بارے میں سب و شتم کرتا تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔

ہم نے دیکھا کہ شاتم کو قتل کرنے کے لیے نہ تو امام کی ضرورت ہے نہ تو دار الاسلام کی ضرورت ہے بلکہ شاتمِ رسول حربی کافر ہے، ہر کوئی اسے قتل کر سکتا ہے۔

شاتم اگر کافر اصلی ہو جیسے ہندو، نصرانی، یہودی وغیرہ تو اس کا خون تو پہلے سے ہی حلال ہے جب کہ حربی ہو، کیوں کہ حربی کافر کو کوئی بھی مسلمان قتل کر سکتا ہے۔

اگر کوئی پہلے مسلمان تھا، اب شاتم ہونے کی وجہ سے حربی کافر ہو گیا تو اس حربی کافر کو کوئی بھی مسلمان قتل کر سکتا ہے، حتی کہ شاتم اگر عورت ہو، یا شاتم اپنا باپ ہو اس کو بھی قتل سے نجات نہیں ملے گی۔

سو ہم نے شاتم کے قتل کرنے کے بارے میں جو کہا کہ حد کی وجہ سے اس کا قتل نہیں ہوگا، بلکہ حربی کافر ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے گا، تو اب کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں رہی کہ حد قائم کرنا امام کی ذمہ داری ہے۔ حد قائم کرنا امام کی ذمہ داری ہے یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن شاتم کا مسئلہ اس سے مختلف ہے، اس لیے کہ وہ حربی کافر ہے اور حربی کافر کو کوئی بھی مسلمان قتل کر سکتا ہے۔

امام کی اجازت کے بغیر اور دار الحرب میں شاتم حربی کافر کو قتل کرنے کے جواز کے بارے میں انگریز کے دور حکومت 6 اپریل 1929ء میں غازی علم الدین شہید رحمہ اللہ کا راجپال کو قتل کرنا اور اس وقت کے علمائے کرام کی طرف سے راجپال کو قتل کرنے پر تحریض کرنا قتل کے بعد تمام علمائے کرام کی طرف سے اسے مان لینا اور ماضی قریب سے لیکر حال کے علمائے کرام تک کا راجپال کے قتل کے جائز ہونےپر اجماع ہونا کسی سے ناجائز ہونے کا فتوی نہ آنا ماضی قریب کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

تنبیہ: یاد رکھیے کہ عام حربی کافر کے قتل کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ قتل کرنا جائز ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم تمام حربی کافروں کو قتل کرنا شروع کردیں، نہیں! یہ مطلب نہیں ہے، بلکہ ہر جائز کام کرنا ہمیشہ فائدے مند نہیں ہوتا، ہمیں مصلحت اور مفسدہ کی طرف دھیان رکھنا ہوگا اور حربی کافر کو جرم کے حساب سے دیکھنا ہوگا، جو شدید ترین مجرم ہے، مفسد فی الارض ہے، گستاخِ رسول یا گستاخ رب جلیل ہے، اس کو اور اس قسم کے دیگر حربی کفار کو جسے بھی موقع ملے قتل کردینا ضروری ہے، باقی دیگر حربی عوام کفار کو ابھی ہم قتل کرنے کے لیے نہیں کہتے، اگرچہ ان کو بھی قتل کرنا جائز ہے لیکن مصلحت کےخلاف ہے۔

ہذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب وعلمہ أکمل وأتم وأصوب۔

جمع و ترتیب از : بندہ صلاح الدین غفر اللہ لہ ولوالدیہ۔

تصحیح شدہ من جانب:

۱:فضیلۃ الشیخ مفتی فاروق صاحب حفظہ اللہ(بانی فاروقی دار الافتاء)

۲: فضیلۃ الشیخ مفتی ابو البطال ناصر الحق خان صاحب حفظہ اللہ( ناظم اعلی فاروقی دار الافتاء)

۳:فضیلۃ الشیخ مفتی مرغوب الرحمن القاسمی صاحب حفظہ اللہ (مجیب و منتظم خاص المسائل الشرعیہ الحنفیہ)

۴: فضیلۃ الشیخ گمنام مسافر صاحب حفظہ اللہ( منتظم خاص فاروقی دار الافتاء)

۵: فضیلۃ الشیخ مفتی معین الدین نعمانی حفظہ اللہ ( بانی نعمانی دار الافتاء گروپ)

۶: فضیلۃ الشیخ مفتی امتیاز انصاری حفظہ اللہ( ناظم اعلی دار الافتاء بھاٹا باری، استاذ جامعہ اسلامیہ کنکپور)

۷:فضیلۃ الشیخ مفتی عاصم محمود حفظہ اللہ (ناظم اعلی راہ ہدایت گروپ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button