رسالہسلائیڈکتابیںنیا

تحذير السواد عن تغافل فريضة الجهاد

تحذير السواد

عن تغافل فريضة الجهاد

فریضۂ جہاد سے آگاہی

 

آرکائیو سے ڈاؤنلوڈ کریں

DOWNLOAD PDF DOWNLOAD DOCX

 میگا سے ڈاؤنلوڈ کریں

DOWNLOAD PDFDOWNLOAD DOCX

 میڈیا فایر سے ڈاؤنلوڈ کریں

DOWNLOAD PDFDOWNLOAD DOCX


 

تحذير السواد

عن تغافل فريضة الجهاد

فریضۂ جہاد سے آگاہی

الاستفتاء:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں:
جہاد کے لغوی شرعی معنی کیا ہے ؟
اور شریعت میں مدار لغوی معنی پر ہے یا شرعی معنی پر ؟
کیاجہاد کی فضیلت کسی دوسرے دینی کام پر منطبق کی جاسکتی ہے ؟
حالاتِ حاضرہ میں جہادِ شرعی کی حیثیت کیا ہے؟ جہادِ شرعی کے شرائط کیا ہیں اور فی الحال وہ موجود ہیں یا نہیں؟
قرآن و حدیث اور معتبر کتب فقہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمادیں
الجواب باسم ملهم الصواب

حقيقة الجهاد:

اللہ تعالی نے انسان کی فلاح و بہبود کی خاطر زندگی کے ہر شعبہ میں الگ الگ احکامات دے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس کی ایسی تبیین و توضیح فرمائی کہ اس میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ بعض کم علموں اور کج فہموں کو یہ احکامات زمانہ کے مطابق نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کے اعتراضات یا تاویلات کا شکار ہوتے ہیں۔ہوتا تو یہ کہ اپنی بے مایگی اور عقلی تیرگی کا اعتراف کرکے سرِ خم تسلیم کرتے لیکن کیا کریں نفس و شیطان اور ہوا و ہوس کے بھی کچھ اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔۔۔بہر حال۔۔۔
شریعت نے ہر عبادت کا اپنا الگ نام اور الگ حکم مقرر کیا ہے، دیگر عباداتِ شرع سے تو واقفیت عام ہے یہاں مقدس فریضہ” جہاد ” کے متعلق چند باتیں سپردِ قرطاس کرنی ہیں۔۔
جہاد ایک ایسی عبادت ہے جس میں تیر و تلوار، تیغ و تفنگ گھوڑے، جہاز اور موجودہ زمانہ کے اعتبار سے پستول، کلاشنکوف، گرینیڈ، ٹینک، بارود وغیرہ سب شامل ہیں؛ کے ذریعہ سے ایک مسلمان کافروں کی سرکوبی کرتا ہے،اور ان کی شان و شوکت کی بخیہ ادھیڑتا ہے۔
اگر وہ کافروں کو قتل کرے تو “غازی” کہلاتا ہے اور اگر وہ ان کے ہاتھوں قتل ہوجائے تو شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوکر “شہید” سمجھا جاتا ہے۔
مسلمان کافروں کو شکست دینے کے بعد ان کا مال چھینتے ہیں اور یہ پاکیزہ رزق “مالِ غنیمت” کہلاتا ہے۔اور اگر مردوں کو زندہ پکڑتے ہیں تو “غلام” بناتے ہیں اور اگر عورتوں کو زندہ گرفتار کرتے ہیں تو “باندی” بناکر انہیں استعمال کرتے ہیں۔
یہ ساری چیزیں مسلمانوں کے لیے بطورِ انعام اللہ تعالی نے رکھی ہیں،لیکن پتہ نہیں کیوں اس زمانہ میں مسلمانوں کو ان چیزوں میں دلچسپی نہیں رہی۔۔ایسا تو نہیں ہے کہ اس مقدس فريضہ کی حقیقت واہمیت کو مسلمانوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہو؟؟؟وإلى الله المشتكى..
یہ تو جہاد کا مختصر تعارف تھا۔۔

معنى الجهاد لغتا واصطلاحا:

جہاد چوں کہ شریعت کی ایک اصطلاح ہے لہذا اس کے لغوی اور اصطلاحی معنی کو جاننا اور ان کے درمیان فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔کیوں کہ بعض نام نہاد مفکرین و مجتہدین جن کو جدید فقہی مسائل اور اسلامی معاشی نظام سے تو بہت لگاو ہے(ہونا بھی چاہیے) لیکن معلوم نہیں کیوں وہ اسلامی نظامِ خلافت نہیں چاہتے؟؟ اور صنمِ اکبر جمہوریت ہی کے مدح خواں بننا اور رہنا پسند کرتے ہیں،اسی لیے کبھی تو وہ حصولِ خلافت کے واحد ذریعہ قتل و قتال کو اس طرح مجروح کرتے ہیں کہ جہاد کے لغوی و اصطلاحی معنی میں فرق ملحوظ رکھے بغیر اس پر حکم لگانا شروع کردیتے ہیں اور کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کا دائرہ تنگ کرکے کافروں کی رضا و خوشی سمیٹتے ہیں کبھی کچھ کبھی کچھ۔۔۔ أعاذنا الله منهم

جہاد” کا معنی لغتِ عرب میں “جد وجہد” اور “کوشش کرنا” ہے۔

شریعت میں جہاد کہتے ہیں:

[“الجهاد شرعا بذل الجهد في قتال الكفار”](مرقاة)

مزید وضاحت کے لیے ایک حدیث پیشِ خدمت ہے:
حضرت عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ
وما الجهاد؟(جہاد کیا ہے؟) آپ نے فرمایا: أن تقاتل الكفار إذا لقيتهم (میدان جنگ میں کافروں سے لڑنا)
پھر کسی نے عرض کیا: فأي الجهاد أفضل؟ (سب سے افضل اور بہترین جہاد کون سا ہے؟)
آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: من عقر جواده وأهريق دمه (جس میں مجاہد کے گھوڑے کا پیر کاٹ دیا جائے اور خود مجاہد کا بھی خون بہادیا جائے). (مسند أحمد)
بس، اور کیا چاہیے؟ اس سے زیادہ وضاحت کیا ہوسکتی ہے؟ کہ جہاد کا معنی شریعت میں صرف اور صرف قتال ہے۔ لہذا اس میں ہیر پھیر کرنا اور دیگر اسلامی عبادات کو جہاد کا نام دینا یہ قرآن و سنت میں تحریف کے مترادف ہے۔ اور شرع کی غلط تشریح کرکے امت کو گمراہ کرنا ہے۔مزید دلائل کے لیے اس موضوع پر لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کیجیے آپ خود ہی حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔
توضیح:
یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ شریعت میں بسا اوقات ترغیبا کسی عمل کو “جہاد” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ جیسے؛ ماں باپ کی خدمت، وغیرہ لیکن اس کی وجہ سے وہ چیز جہاد نہیں بن جاتی۔

میں ایک مثال دوں:

ایک مزدور شخص گرمی میں بڑی مشقت سے روزہ رکھ رہا ہے۔ گرمی کی شدت ہے، کام بھی بہت ہیں لیکن ان تمام چیزوں کو برداشت کرکے وہ اپنے روزہ کو پورا کررہا ہے۔اور یہ کام شریعت میں محمود بھی ہے اور بندگی کا مطلوب بھی۔
اب ایسے شخص کے فعل جس میں شدید مشقت ہے شریعت میں “روزہ” ہی کہا جائے گا۔ہے کوئی مائی کا لال جو اسے جہاد کہ دے؟ ہوسکتا ہے اس پر اس شخص کو ایسا ثواب ملے کہ وہ کسی غازی یا شہید کے مرتبہ سے آگے نکل جائے،لیکن اس کا یہ فعل “روزہ” ہی کہلائے گا “جہاد” نہیں۔۔
اسی طرح شریعت کے دوسرے احکامات کو سمجھیے کہ گرچہ ان میں مشقت ہے، تکلیف ہے، لیکن وہ جہاد نہیں کہلائیں گےاس لیے کہ جہاد ایک الگ حکم ہے اور یہ سارے احکامات اپنی الگ حیثیت رکھتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ترغیبًا ان میں سے کسی کو قرآن و سنت میں جہاد کا نام دے دیا گیا ہو، لیکن اس کی بناء پر سارے فضائل و احکامات کو جو جہاد بمعنی قتال کے ساتھ خاص ہیں دیگر عبادات کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور عوام کو جہاد کا نام استعمال کرکے اصل جہاد کی طرح ان پر ابھارا جائے یہ تو بڑی نا انصافی کی بات ہوگی۔
جیسے کوئی کسی کو کسی شخص کے متعلق کہے کہ یہ تمہارے ‘باپ’ جیسے ہیں، اب ایسا تو نہیں ہے کہ سارے اوامر اور فضیلتیں جو باپ کے متعلق شریعت میں وارد ہوئی ہیں، سب اس کے حق میں بھی ثابت ہو جائیں اور یہ شخص اس کی ایسی ہی تعظیم شروع کردے جیسے باپ کی کرنا چاہیے بلکہ ظلم بالائے ظلم حقیقی باپ سے منہ موڑ لے اور کہے کہ اب یہی میرا ‘باپ’ ہے۔۔۔۔آپ خود ایسے شخص کے متعلق فیصلہ کرلیں۔۔۔
جو فیصلہ ہوگا وہی بات یہاں بھی صادق آئے گی اس شخص پر جو حقیقی جہاد سے روگردانی کرلے اور اس کے کرنے والوں کو شدت پسند اور تنگ نظر گردانے اور مجازی جہاد کو حقیقی کا نام دے کر سارے فضائل سمیٹنے میں لگ جائے۔۔۔۔۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جہاد صرف اور صرف قتال فی سبیل اللہ یعنی میدانِ جہاد میں کفار سے لڑنے کا نام ہے، نیز وہ عمل جو قتال فی سبیل اللہ کا باعث ہو اور اس سے قتال فی سبیل اللہ ہی کی تائید ہوتی ہو، خواہ زبان سے یا قلم سے یا مال سے۔۔۔(اس کی تفصیل انواعِ جہاد کے تحت آئے گی،ان شاء اللہ)

تنبیہ:اس حقیقت و مجاز کے فلسفہ کو سمجھے بغیر بعض کم علم، بلکہ (معذرت کے ساتھ) بعض اہلِ علم بھی “توسع” کے نام پر احکامات میں خلط ملط کا شکار ہوئے ہیں حالاںکہ قرونِ اولی ثلاثہ میں صحابہ و تابعین اور اس کے بعد بھی کسی بھی فقیہ یا محدث نے جہاد کا “قتال” کے علاوہ معنی نہیں لیا ہے،لہذا انہیں اس جہت سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔واللہ اعلم بالصواب

اللّهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه.

غرض الجهاد وغايته:

اب اس کے بعد جہاد کی غرض و غایت سمجھیں، کیوں کہ اس کو لے کر بھی بعض مصلحت کوش اور آرام پسند قائدین امت کو دھوکہ دینے کی یہ کہ کر کوشش کرتے ہیں کہ” اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو امن و امان کے ساتھ عبادت کرنے مل جائے اور ان کے اسلام پر چلنے میں کوئی رخنہ انداز نہ ہو، اور یہ بات حاصل ہے لہذا ہمیں جہاد کی اب ضرورت نہیں ہے”۔
ان کے اس بات کے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یا تو انہیں مکمل اسلامی تعلیمات اور انسان کے اس دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کا علم ہی نہیں یا اگر علم ہے بھی تو اس چشم پوشی کے پسِ پردہ تقربِ شاہاں یا کفار کی رضا کا حصول مضمر ہے تاکہ ان کی جان و مال محفوظ ہوجائے گرچہ ایمان جاتا رہے۔۔۔۔اللہ ایسے ضمیر فروشوں سے امت کی حفاظت فرمائے۔آمین

تمہید: غرض و غایت کے بیان سے پہلے ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ جہاد وقتی نہیں بلکہ ایک دائمی فریضہ ہے جس کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے:
《الجهاد ماض منذ بعثني الله تعالى إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال》(سنن أبي داؤد)
ایک روایت میں ہے:
《الجهاد ماض إلى يوم القيامة》
خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
اور یہی جمہور فقہاء کا مسلک ہے چنانچہ ابو بکر جصاص کہتے ہیں:
[وقال أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد ومالك وسائر فقهاء الأمصار:إن الجهاد فرض إلى يوم القيامة].(أحكام القرآن)

اب جہاد کی غرض و غایت سمجھیے:

﴿وَقاتِلوهُم حَتّى لا تَكونَ فِتنَةٌ وَيَكونَ الدّينُ لِلَّهِ ﴾ [2:193] -(البقرة)
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تم ان سے اس وقت تک قتال کرتے رہو جب تک کہ فتنہ کا خاتمہ نہ ہوجائے اور اللہ کا دین غالب آجائے تمام دینوں پر۔۔۔
یہاں دو چیزیں ہیں:ایک فتنہ کا اختتام دوسرا دینِ اسلام کا غلبہ۔(فتنہ کی تفسیر ابن عباس وغیرہ سے ‘شرک’ منقول ہے۔)
پس جہاد کا مقصد ہوا دین اسلام کا غلبہ اور کفر وشرک کا اختتام۔
گرچہ کلی طور پر یہ مقصد قیامت کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں حاصل ہوگا، لیکن چوںکہ اس کام کو جاری رکھنا امت کے ذمہ ضروری ہے، تاکہ باطل زیر ہی رہے اور سر ابھارنے کی کوشش نہ کرے۔
اسی لیے فقہاء نے جہاد کے مقصد کو کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے:
[ونوع هو فرض على الكفاية إذا قام به البعض سقط عن الباقين لحصول المقصود ‘وهو كسر شوكة المشركين وإعزاز الدين‘.](المبسوط للسرخسي)
[وإنما فرض لإعزاز دين الله ودفع الشر عن العباد](الهداية)
[ولأن ما فرض له الجهاد وهو الدعوة إلى الإسلام، وإعلاء الدين الحق، ودفع شر الكفرة وقهرهم.](بدائع الصنائع)
ان عبارتوں کا خلاصہ اگر دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہ ہوگا کہ جہاد کا مقصد دفعِ ظلم اور کسرِ شوکتِ کفر ہے۔
یہاں ایک بات کی طرف متنبہ کرتے چلوں کہ جو لوگ ‘امن و سلامتی’ کو مقصود سمجھتے ہیں اور لوگوں کو وہی باور کراتے ہیں۔(اسی وجہ سے ان کے یہاں کفریہ شرکیہ جمہوریہ نظام قابلِ قبول ہے) وہ مبسوط سرخسی کی اس عبارت اور دیگر کتابوں کی ان جیسی عبارتوں کو پیش کرتے ہیں:
]”والمقصود أن يأمن المسلمون ويتمكنوا من القيام بمصالح دينهم ودنياهم“[
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مقصود امن و سلامتی حاصل ہوجانا ہے اس طور پر کہ مسلمان اپنی دینی اور دنیوی تقاضوں پر عمل پیرا ہو سکیں۔۔۔
یہ ایک صریح دھوکہ ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ ان عبارات کا ایک پسِ منظر ہے۔وہ یہ کہ جہاد عام حالات میں جمہور کے یہاں فرضِ کفایہ ہے، اگر بقدرِ کفایت لوگ اس فریضہ کو ادا کرتے رہیں تو بقیہ کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔
اس کی دلیل میں فقہاء یہ عبارت پیش کرتے ہیں کہ “جہاد کا مقصد تو یہ ہے کہ مسلمان امن و سلامتی کے ساتھ اپنی دینی و دنیوی ضرورتیں پوری کر سکیں” کیوں کہ اگر ہر ایک پر ہر وقت جہاد فرض ہوگا تو امورِ زندگی برابر چل نہیں سکیں گے۔
پس اس عبارت کا مقصد جہاد کی غرض وغایت کو بتلانا نہیں بلکہ عام حالات میں فرضِ کفایہ ہونے کی حکمت کو بیان کرنا ہوا۔لہذا اس سیاق کو ملحوظ رکھا کریں آپ کو کوئی جمہوری دھوکہ نہیں دے سکتا۔۔

أنواع الجهاد وأحكامها:

جہاد فی سبیل اللہ کی دو بڑی قسمیں ہیں:
۱-دفاعی جہاد
۲-اقدامی جہاد

دفاعی جہاد:
اگر کسی علاقہ میں کفار حملہ کردیں، تو وہاں کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں، یہ فرض “فرضِ عین” ہے، لہذا عورت شوہر کی اجازت کے بغیر،(1) بیٹا ماں باپ کی رضامندی نہ ہونے کے باوجود نکلے گا، اور کفار کا مقابلہ کرے گا۔
اگر اس علاقہ کے مسلمان تعداد یا وسائل میں کمى ہونے کی بناء پر یا سستی و تکاسل کی وجہ سے اپنے دفاع پر قادر نہ ہوں تو اس سے قریبی علاقہ والوں پر یہ فرضیت عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی حيثیت کے مطابق، ضرورت کے بقدر ان كى امداد کریں اسی طرح الاقرب فالاقرب۔۔یہاں تک کہ ہر ایک فردِ مسلم پر یہ نماز روزہ کی طرح فرض ہو جائے گا۔
چنانچہ درِ مختار میں ہے:
[وإياك أن تتوهم أن فرضيته تسقط عن أهل الهند بقيام أهل الروم مثلا بل يفرض على الأقرب فالأقرب من العدو إلى أن تقع الكفاية فلو لم تقع إلا بكل الناس فرض عينا كصلاة وصوم ومثله الجنازة والتجهيز وتمامه في الدرر.](الدر المختار)

یہ تو ہوا دفاعی جہاد ۔۔۔۔یہاں رک کر سوچیں اور بصدقِ دل غور کریں:

کہ اس زمانہ میں کیا ہر خطہ کے مسلمانوں پر یہ جہاد فرض نہیں ہے؟
کیا فلسطین و شام، لیبیا اور لبنان اور کشمیر و افغانستان کے مسلمان اپنے دفاع کے لیے کافی ہیں؟
کیا ہم پر یہ فريضہ عائد نہیں ہوتا کہ ہم ان کی مدد کریں؟
کہیں ہم ایک فريضہ کے ترک کے مرتکب تو نہیں ہورہے ہیں؟۔۔۔۔اللهم اهدنا سواء السبيل

فرضِ عین کی ادائیگی کی صورتیں:
پہلی صورت:
تو یہی ہے جو اوپر ذکر کی گئی۔
دوسری صورت:
یہ ہے کہ امام المسلمین کسی مہم کے لیے نفیرِ عام کا اعلان کردے، یا کسی خاص گروہ کو جہاد کے لیے متعین کردے، اب ان پر جہاد فرضِ عین ہوگا۔
تیسری صورت:
یہ ہے کہ کسی نے جہاد کی نذر مانی تو اب اس شخص پر جہاد فرضِ عین ہوگا۔
چوتھی صورت: یہ ہے کہ جو شخص میدانِ جنگ میں پہنچ جائے تو اب اس پر جہاد فرضِ عین ہوجائے گا، کیوں کہ فرضِ کفایہ کو شروع کرنے سے وہ فرضِ عین ہوجاتا ہے۔(2)

دلائل:

۱:علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں:
[قلت: يعني أنه يكون فرض عين على من يحصل به المقصود وهو دفع العدو فمن كان بحذاء العدو إذا لم يمكنهم مدافعته يفترض عينا على من يليهم، وهكذا كما سيأتي، ولا يخفى أن هذا عند هجوم العدو أو عند خوف هجومه وكلامنا في فريضته ابتداء، وهذا لا يمكن أن يكون فرض عين إلا إذا كان بالمسلمين قلة والعياذ بالله تعالى بحيث لا يمكن أن يقوم به بعضهم، فحينئذ يفترض على كل واحد منهم عينا تأمل.](رد المحتار)
۲:ھدایہ میں ہے:
[” إلا أن يكون النفير عاما ” فحينئذ يصير من فروض الأعيان لقوله تعالى: {انفروا خفافا وثقالا} [التوبة: من الآية٤١] الآية.](الهداية)
[فإن هجم العدو على بلد وجب على جميع الناس الدفع تخرج المرأة بغير إذن زوجها والعبد بغير إذن المولى ” لأنه صار فرض عين وملك اليمين ورق النكاح لا يظهر في حق فروض الأعيان كما في الصلاة والصوم.](الهداية)

اقدامی جہاد:
اور اگر مسلمان کفار کی ہمہ جہت ریشہ دوانیوں اور ایذا رسانیوں سے محفوظ ہوں تب مسلمانوں کا کفار پر حملہ کرنا فرضِ کفایہ ہے۔جس کی اقل مقدار فقہاء کی تصریح کے مطابق ایک سال ہے۔
یہ ہے اقدامی جہاد۔۔۔
مذکورہ بالا توضیح سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جہاد کا فرض سے نیچے کوئی درجہ ہی نہیں ہے۔
ابن عابدین کہتے ہیں:
[وليس بتطوع أصلا.]ارد المحتار)
لہذا بعض لوگوں کا کہنا کہ “اگر کفار مسلمانوں پر کسی علاقہ میں حملہ کردیں تو اس علاقہ کے مسلمانوں کے لیے “جائز” ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ان کا مقابلہ کریں” ایک فریب ہے اور فریضۂ جہاد سے غفلت کی اعلی مثال ہے۔

فرضِ کفایہ ہونے کا مطلب:
اس بات کی توضیح کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ایک طبقہ کچھ اس طرح نکلا کہ اس نے جہاد کو بلا تاویل و توجیہ مانا،جہاد کی فرضیت کو سمجھا لیکن چونکہ اسے خود کرنا نہیں تھا اس لیے اس نے یہ کہ کر دامن جھاڑ دیا کہ جہاد اس زمانہ میں فرضِ کفایہ ہے لہذا اگر ایک جماعت اس کو ادا کررہی ہیں تو بقیہ کی طرف سے فرضیت ساقط ہوگئی، وہ دین کے دوسرے فرائض و احکامات کی طرف متوجہ ہوں۔۔۔
جب آپ “فرضِ کفایہ” کی حقیقت کو سمجھ لیں گے تو یہ بات کتنی صحیح ہے خود ہی آپ کے علم میں آجائے گی اور آپ اگر اس کا شکار ہوں گے تو آپ کو دماغ کے دریچے بھی کھلتے ہوئے محسوس ہوں گے۔۔ان شاء اللہ۔
“فرضِ کفایہ” ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اس حکم کا فرضِ عین کی طرح ہی مخاطب ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کو پورا کرنے کے لیے ایک معہود مقدار کافی ہوتی ہے، لہذا سب کے ذمہ سے فرضیت “ساقط” ہوجاتی ہے۔
یہاں دو باتیں ہیں:ایک کفایت کا حصول دوسرا اس کی وجہ سے فرضیت کا سقوط، پس جب تک کفایت نہیں پائی جائے گی فرضیت کا سقوط نہیں ہوگا۔خود “کفایہ” اور “سقوط” کی تعبیر سے ایک عقلِ فہیم رکھنے والا شخص تھوڑا غور کرنے کے بعد سمجھ سکتا ہے، ہاں جسے سمجھنا نہ ہو تو بات اور ہے۔

مغنی میں علامہ ابن قدامہ کہتے ہیں:
[فالخطاب في ابتداءه يتناول الجميع كفرض ثم يختلفان في أن فرض الكفاية يسقط بفعل بعض الناس له وفرض الأعيان لا يسقط عن أحد بفعل غيره.](المغني)
علامہ ابو بکر جصاص رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں:
[فإن قام بفرض الجهاد من فيه كفاية وغنى فقد عاد فرض الجهاد إلى حكم الكفاية.](أحكام القرآن)
امید ہے کہ ان ساری باتوں سے آپ کے سامنے حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہو گی.اب فیصلہ آپ پر ہے کہ ان نام نہاد قائدین کی مانے یا شریعت کی مانے۔
نوٹ:ان تمام دلائل میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جہاد زندگی میں ایک مرتبہ کا فريضہ بھی نہیں ہے، کیوں کہ اس کا باعث چونکہ کفار کے ظلم و ستم کا خاتمہ یا اعلاء کلمت اللہ کا حصول ہے اور جب جب بھی یہ پایا جائے گا جہاد کی فرضیت عائد ہوتی رہے گی۔

فرضِ کفایہ کی ادائیگی کی صورتیں:
فرضِ کفایہ کی ادائیگی کے متعلق فقہاء کی جتنی عبارتیں ہیں سب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی چند صورتیں ہیں:
پہلی صورت:
یہ کہ دار الاسلام کی سرحدوں پر ایک جماعت موجود ہوں جو کفار کے حملوں کو روکیں اور ان کو خوف زدہ کیے رکھیں، اسی کو شریعت میں “رباط” کا نام دیا گیا ہے اور اسی کے متعلق مختلف فضائل وارد ہوئے ہیں۔اگر سرحدوں پر موجود مجاہدین کافی نہ ہوں تو دار الاسلام کے باشندوں پر بقدرِ کفایت ان کا تعاون ضروری ہے۔

دوسری صورت:
یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ امام المسلمین کو چاہیے کہ اگرچہ مسلمان امن و امان کی زندگی گذار رہے ہوں اور کفار کی یورش سے بالکل محفوظ ہوں لیکن سال میں ایک مرتبہ کفار کے کسی ملک پر حملہ آور ہوں اور ان کی شوکت کو ابھرنے سے مزید روکیں تاکہ ان کی حیثیت انہیں یاد رہیں اور وہ اسے بھلا کر مسلمانوں کے خلاف اتحاد اور حملہ آوری کا سوچنے سے باز رہیں۔۔
تیسری صورت:
یہ ہے کہ اگر کہیں سانپ اپنا سر نکال رہا ہو تو امام المسلمین سال میں ایک سے زائد مرتبہ بھی نشتر لگادیں تاکہ فاسد مادہ کا زور ختم ہوجائے۔

دلائل:
۱: علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں:
﴿ أَوَلا يَرَونَ أَنَّهُم يُفتَنونَ في كُلِّ عامٍ مَرَّةً أَو مَرَّتَينِ ثُمَّ لا يَتوبونَ وَلا هُم يَذَّكَّرونَ ﴾ [9:126] – التوبة
[فيجب على الإمام أن يبعث سرية إلى دار الحرب كل سنة مرة أو مرتين.](رد المحتار)
۲:مغنی لابن قدامہ میں ہے:
[وإن دعت الحاجة في العام أكثر من مرة وجب لأنه فرض كفاية فكان على حسب الحاجة.](المغني)
۳:احکام القرآن علامہ جصاص میں ہے:
[ومعلوم في اعتقاد جميع المسلمين أنه إذا خاف أهل الثغور من العدو ولم تكن فيهم مقاومة فخافوا على بلادهم وأنفسهم وذراريهم أن الفرض على كافة الأمة أن ينفر إليهم من يكف عاديتهم عن المسلمين وهذا لا خلاف فيه بين الأمة.](أحكام القرآن)

تتمه:
اس عنوان کے آخر میں جہاد کی ذیلی تین قسمیں ذکر کرنا موزوں ہوگا۔جیسا کہ میں نے پہلے اجمالا اس كا تذکرہ کیا تھا کہ “ہر وہ عمل جس سے قتال اور مقاتلین کو تقویت و تائید حاصل ہو اسے بھی جہاد کہا جائے گا”۔
اس اعتبار سے فقہاء نے جہاد کی مزید تین قسمیں کی ہیں:
۱-جہاد بالمال
۲-جہاد باللسان
۳-جہاد بالقلم

۱:”جہاد بالمال” کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کا مال جہاد اور مجاہدین کے کام آجائے اور اس سے براہِ راست میدان جنگ میں مجاہدین کو فائدہ پہنچے۔

۲:”جہاد باللسان” کا مطلب یہ ہے کہ کوئی خطیبِ شعلہ بیاں مسلمانوں کو میدان میں جہاد کرنے پر ابھارے اور انہیں ترغیب و ترہیب کے ذریعہ مجاہدین کا ساتھ دینے پر آمادہ کرے، اسی طرح وہ شخص بھی جو جہاد اور مجاہدین کے متعلق لوگوں کی ذہن سازی کرے اور میدان کارزار کے لیے راہ ہموار کرے نیز وہ نظمیں جن کو سن کر آدمی جوش و ولولہ سے پر ہوجائے بھی جہاد باللسان کے زمرہ میں شامل ہوں گی۔

“جہاد بالقلم” بھی جہاد باللسان ہی کی طرح ہے کہ کوئی شخص تحریر کے ذریعہ جہاد پر بر انگیختہ کرے یا ان پر وارد ہونے والے اعتراضات اور ان کے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرے۔
الغرض ہر وہ فعل جس سے جہاد او مجاہدین کو براہ راست فائدہ ہو وہ جہاد فی سبیل اللہ کے مبارک زمرہ میں شامل ہوگا۔

دلائل:
۱:﴿ انفِروا خِفافًا وَثِقالًا وَجاهِدوا بِأَموالِكُم وَأَنفُسِكُم في سَبيلِ اللَّهِ ذلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴾ [9:41] – التوبة
۲:《وعن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم.》(سنن أبي داؤد)
۳:《من جهز غازيا فقد غزا ومن خلّفه في أهله بخير فقد غزا》.(متفق عليه)
۴:[والتحقيق أن جنس الجهاد فرض عين إما بالقلب وإما باللسان وإما باليد فعلى كل مسلم أن يجاهد بنوع من هذه الأنواع.](زاد المعاد)
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات آشکارہ ہوگئی ہوگی کہ جہاد بالمال، جہاد باللسان اور جہاد بالقلم کے حقیقی معنی کیا ہے؟
اسی سے ان لوگوں کے متعلق آپ فیصلہ کرستکے ہیں جو دیگر دینی اور رفاہی کاموں میں مال خرچ کرنے کو جہاد بالمال کا نام دے کر اور کسی بھی دین جد و جہد کے لیے قلم اٹھانے یا زبان چلانے کو جہاد بللسان و القلم کہ کر امت کو کس افراط و تفریط میں مبتلا کر رہے ہیں۔۔۔۔العاقل تکفیہ الاشارہ…

فلسفۂ جہادِ اکبر و جہادِ اصغر

اب اس جملہرجعنا من الجہاد الأکبر الی الجہاد الأصغر کی حقیقت سمجھیے، چونکہ قوم جب پستی کا شکار ہوتی ہے تو ان کی زبان پر پستی کے جملے اور ان کا دل تنزلی کے خیالات بُننے لگتا ہے اور ایسی قوم خود ہی اپنے زوال کے منصوبہ بناتی ہے۔اسی کی ایک نظیر یہ جملہ ہے جس کو حدیث کے نام پر لوگوں میں عام کیا گیا تاکہ اعداء اسلام سے توجہ ہٹا کر خود کی جان کا دشمن بنا دیا جائے۔

دلائل:
۱:ملا علی قاری نے اس جملہ کو اپنی کتاب موضوعاتِ کبری میں نقل کیا ہے۔
۲:حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ حدیث زبانوں پر چڑھی ہوئی ہے حالانکہ یہ ابراہیم بن علبہ نامی شخص کا مقولہ ہے۔
۳:تعلیق الصبیح میں بحوالہ ابن تیمیہ یہ بات لکھی ہوئی ہے کہھذا حدیث لا اصل له
۴:نیز فتاوی عزیزی میں شاہ عبد العزیز نے اس حدیث کے سلسہ میں ایک مفصل جواب تحریر فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ قول صوفیاء کی کتابوں میں بکثرت پایا جاتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کسی صوفی کا قول ہی ہو لیکن یہ حدیث نہیں ہے۔پھر اس کے دلائل بھی ذکر کیے۔۔(تفصیل کے لیے دیکھیے فتاوی عزیزی)

چند عبارات ملاحظہ کیجیے:
۱: امام ابن تیمیہ تحریر کرتے ہیں:[أما الحديث الذي يرويه بعضهم أنه قال في غزوة تبوك: رجعنا من الجهاد الأصغر، إلى الجهاد الأكبر فلا أصل له، ولم يروه أحد من أهل المعرفة بأقوال النبي ﷺ وأفعاله.](مجموع الفتاوى لابن تيميه)
۲:[هو مشهور على الألسنة، وهو من كلام إبراهيم بن عيلة.](تسديد القوس في تخريج مسند الفردوس)

شرائط الجهاد:

آخر میں جہاد کے چند شرائط ذکر کیے جارہے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ یہ سارے شرائط اقدامی جہاد کے ہیں نہ کہ دفاعی جہاد کے اور مذکورہ بالا توضیح سے آپ کے سامنے یہ بات عیاں ہوگئی ہوگی کہ موجودہ زمانہ میں جس علاقہ پر کفار براہ راست حملہ آور ہیں ان پر “اصلا” اور بقیہ پوری امت پر “تبعا” دفاعی جہاد فرض عین ہے۔اس وضاحت کی اس لیے ضرورت ہوئی کیوں کہ اس معاملہ میں بھی بعض لوگوں نے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی اور کہا کہ موجودہ زمانہ میں جہاد کے شرائط نہیں پائے جاتے ہیں اس لیے جہاد فرض نہیں۔
در اصل یہ ساری باتیں پیدا ہوئی ہے غلام احمد قادیانی کے ناپاک وجود کے ظہور کے بعد اور اگر آپ اس ملعون کی مختلف کتابیں اور عباریتیں پڑھیں تو آپ خود ہی سمجھ لیں گے کہ جو لوگ اس زمانہ میں جہاد کو لیکر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ دانستہ یا نا دانستہ کس کے پیروکار اور کس کے نظریہ کے حامل ہیں۔
اس بات کی دلیل اور اصل کہ یہ سارے شرائط جہاد اقدامی کے ہیں؛ ابو بصیر اور ابو جندل کا قصہ ہے جو بخاری میں مذکور ہے۔
اور ایک عقلی دلیل بھی ہے کہ اگر جہاد کے لیے اسلامی حکومت، مرکز وغیرہ شرائط عائد کیے جائیں تو بات پیچیدہ ہوجائے گی کیوں کہ جہاد کا مقصد اسلامی خلافت کا قیام ہے اور اگر اسے ہی جہاد کی شرط بنا دے تو منطق و فلسفہ کی اصطلاح میں دور و تسلسل لازم آئے گا اور یہ باطل ہے۔
نیز تعداد وغیرہ کی شرط تو خود تاریخی واقعات کے خلاف ہے اور اب بھی اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طرف چند نہتے افغان اور دوسری طرف ۴۲ ملکوں کا اتحاد، جنگ کی ابتداء میں بعض کم ظرفوں نے ان اللہ والوں پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ ان کا یہ اقدام جذبات اور دور اندیشی کے فقدان پر مبنی ہے، وقت کے گذرتے بات واضح ہوگئی کہ کون اعلی ظرف اور دور اندیش اور کون کم ظرف اور کوتاہ نگاہ ہے۔
بات در اصل یہ ہے کہ جنہیں کام کرنا ہوتا ہے تو وہ کام کرنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں(اللہم اجعلنا منہم) اور جنہیں نہیں کرنا ہوتا وہ اسباب اور دواعی کے باوجود بھی طرح طرح کی تاولیں کرکے چھٹکارا حاصل کرنے کے در پے ہوتے ہیں۔۔(اللہم لا تجعلنا منہم)

فقہاء نے جہادِ اقدامی کے واجب ہونے کے چند شرائط بیان کیے ہیں:
۱-مسلمانوں کی تعداد اتنی کثیر ہو جس سے شان و شوکت پیدا ہو۔
۲-پوری جماعت کے مصارف بھی مہیا ہوں۔
۳-مسلمانوں کی جماعت کا کوئی ایسا امیر ہو جو ان کی قوت کو ایک مرکز پر جمع رکھ سکتا ہو، اور یہ شرط جہاد کے لیے بمنزلہ روح کے ہے۔
۴-مسلمانوں کا کوئی ایسا مامون و محفوظ مرکز بھی ہو کہ جہاں کفار کے شر سے نجات حاصل ہوجائے اور بوقتِ ضرورت وہاں پناہ حاصل کی جاسکے۔
۵-مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہونے کی امید ہو، اگر غالب گمان ہو کہ کفار غالب اور مسلمان مغلوب ہوجائیں گے تو پھر جہاد فرضِ عین نہیں ہوگا۔
مستفاد از – ( فتاویٰ عبد الحئ) اور(اسلام اور سیاست)

قہرِ درویش بر جانِ درویش
امت کا ایک گروہ اس حدیث میں مذکور “جہاد بالنفس” کو لے کر یہ فریب دہی کی کوشش کرتا ہے کہ اصل “نفس کا جہاد” ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث دیتا ہے کہالمجاہد من جاہد نفسہنیز ایک اور جملہ حدیث کے نام پر پیش کرتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ سے واپسی کے وقت فرمایا تھا:رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر۔حقیقت ان تمام باتوں کی یہ ہے کہ یا تو علم کی کمی ہے یا اپنے مفادات کے حصول کے لیے تجاہلِ عارفانہ۔
عربی کا قاعدہ ہے کہ “باء” یہ آلہ پر داخل ہوتا ہے؛ یعنی جس چیز پر باء داخل ہوتا ہے فاعل اپنے فعل کو اس چیز کے ذریعہ سے انجام دیتا ہے۔چنانچہ ‘جہاد بالنفس’ کا معنی ہوگا، نفس کے ذریعہ جہاد کرنا، یعنی آدمی کا خود بنفسِ نفیس جہاد میں شرکت کرنا، اس طرح جہاد بالقلم اور جہاد باللسان یعنی آدمی کا قلم کے ذریعہ یا زبان کے ذریعہ جہاد کرنا۔ اسی طرح کہ سکتے ہیں جہاد بالسیف، جہاد بالسنان، جہاد بالبندق وغیرہ۔
تعجب ہوتا ہے کہ یار لوگ جہاد بالقلم اور باللسان کا ترجمہ اور معنی بالکل قاعدہ کے مطابق کرتے ہیں کیوں کہ وہاں اسی میں خود کا مقصد حاصل ہورہا ہے کہ کوئی بھی کام کرو نام دے دو باللسان یا بالقلم۔۔۔لیکن یہاں آتے آتے قاعدہ کا ذہن سے ذہول ہوجاتا ہے اور قدم پھسل جاتا ہے۔۔۔کوئی بات نہیں ہم نے یاد دلا دیا اور وضاحت کردی ہے، امید ہے بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔
اب رہی بات “المجاہد من جاہد نفسہ”۔۔تو پہلے مکمل جملہ ملاحظہ کیجیے عبد اللہ بن مبارک نے اپنی کتاب میں یہ حدیث نقل کی ہے:”المجاہد من جاہد نفسہ بنفسہجس کا سیدھا سیدھا ترجمہ یہ ہوگا کہ “مجاہد تو وہ ہے جو اپنے نفس کے ذریعہ اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے”۔۔
پہلے تو اس حدیث کے آخر کا حصہ حذف کردیا کیوں کہ یہاں دو مرتبہ “نفس” آگیا تھا،لہذا کوئی بھی سمجھ سکتا تھا کہ اس کا وہ معنی نہیں ہے جسے بیان کیا جارہا ہے، پس قلعی کھل جاتی اور بات بگڑ جاتی، اسی لیے پہلے ہی احتیاطی تدبیر اختیار کرلی گئی۔۔۔۔۔لیکن کیا کریں خود حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا، اور ایک جماعت قیامت تک اس فريضہ کو انجام دیتی رہے گی تو ان حق کے پرستاروں کی حفاظت اور ان کی طرف سے دفاع کرنے والے بھی ضرور ہوں گے۔۔۔۔اسی لیے راز فاش ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔۔۔بہر حال آتے ہیں اس جملہ کے حقیقی معنی کی طرف۔۔۔ترجمہ سے آپ کو کچھ بات سمجھ میں آگئی ہوگی مزید وضاحت یہ ہے کہ یہاں دو باتیں ہیں:نفس کے ذریعہ سے جہاد کرنا اور نفس کے خلاف جہاد کرنا۔
اگر اس کا وہی معنی لیا جائے جو یار لوگ لیتے ہیں تو بات کچھ مغلق سی ہوجائے گی اور ایک ہی چیز فاعل و مفعول دونوں بن جاتی ہے کیوں کہ یہاں نفس کو آلہ بنایا گیا ہے، اور جس طرح کس کام کرنے والا “فاعل” کہلاتا ہے اسی طرح وہ آلہ بھی “فاعل” کے حکم میں ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ فعل کو انجام دے رہا ہے، پس “نفس” فاعل ہوا اور “نفس” مفعول بھی ہے کیوں کہ اس کے خلاف جہاد کرنے کہا جارہا ہے اور ایک ہی چیز کا بیک وقت فاعل اور مفعول ہونا ایک ہی فعل کا یہ محال ہے۔لہذا اب اس کا وہ معنی لینا ہوگا جس سے بات درست ہوجائے اور مرادِ نبوی واضح ہوجائے۔
یہاں مراد یہ ہے کہ کفار کے ساتھ جہاد میں اس نفس کو استعمال کیا جائے یعنی آدمی بذاتِ خود اس میں شریک ہو اس طرح کرنے سے نفس کشی اور نفس کی قربانی بھی خود بخود ہوجائے گی کیوں کہ نفس کشی کی اصل یہی ہے کہ وہ اللہ کے لیے اپنی جان و مال سب کو داو پر لگادے۔۔۔لیکن ندارد پس معلوم ہوا کہ نفس کشی کے نام پر ضمیر کشی و ضمیر فروشی کا سلسلہ جاری ہے، اسی لیے سارے مظالم کو “صبر” کے نام پر برداشت کیا جارہا ہے اور اسی کی تلقین کرکے امت کو مزید بزدلی کی طرف دعوت دی جارہی ہے۔اللہم احفظنا منہم

مولانا گنگوہی الکوکب الدری میں لکھتے ہیں:
[ولا يخفى مابين الجهادين من الالتئام والاتصال فإن مجاهدة الكفار لا تخلو عن مجاهدة النفس ولا تتصور دونها ومجاهدة النفس إذا كملت لا تكاد تترك الرجل لا يجاهد الكفار بلسانه أو بسنانه.](الكوكب الدري)

نوٹ:ایک بات یاد رکھیں کہ یہ ساری تفصیلات اور جوابات اس شخص کے لیے ہیں جو جہاد سے بچنے کے لیے چور دروازہ کے طور پر ان ساری حدیثوں کو استعمال کرے، ورنہ اکابرِ علماء دیوبند بھی اسے نفس کے مجاہدہ، تزکیہ اور تخلیہ و تحلیہ کے باب میں بیان کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔

لمحۂ فکریہ:
مذکورہ مباحث کے بعد آپ کے ذمہ ہے، آپ خود فیصلہ کریں کہ
آج کل جہاد کا کیا حکم ہے؟
اور کیا ہم اس حکم کو بجا لارہے ہیں؟
حکم کا خلاصہ یہ ہے کہ آج تمام مسلمان دفاعی پوزیشن پر ہیں اور اقدامی جہاد تو آج ہمارے لیے ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے کہ کشمیر، فلسطین وغیرہ وہ علاقے جہاں کفار کا قبضہ ہے وہاں کے مکینوں پر جہاد کے فرضِ عین ہونے میں کوئی اشکال نہیں اور مجموعی طور پر تمام امت مسملہ پر بھی فرضِ عین ہے گر چہ وہ نام کی اسلامی حکومت کے تحت زندگی گذاررہے ہوں کیوں کہ مغلوب مسلمان غالب کافروں کے مقابلہ میں کافی نہیں ہیں خواہ تعداد اور وسائل میں کمی کی بناء پر ہو یا تکاسل اور سستی برتنے کی وجہ سے۔پس الاقرب فالاقرب کے حکم کے اعتبار سے تمام مسلمان جہاد کی فرضیت کے مخاطب ہوئے ۔

ذرا غور کریں!کہ یہ سارے جہاد سے بچنے کے لیے پروپیگنڈا کیے جاتے ہیں اور جن فقہاء کی عبارتوں سے آپ پر جہاد کی حقیقت واضح ہوئی انہیں کو توڑ مروڑ کر جہاد سے دور بھاگنے کے راستے تلاس کیے جاتے ہیں۔
کیا یہ انصاف ہے؟
کیا فقہاء کے کتاب السیر اور کتاب الجہاد وغیرہ لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ ان کے ذریعہ سے جہاد سے بچا جا سکے؟
خدارا اپنے نظریات کو درست کریں اور اپنے اعمال اور جہاد اور مجاہدین کو لیکر اپنے رویوں کا محاسبہ کریں کہ آج ہم اجتماعی طور پر اس فريضہ کے تارک ہیں جو اعلاء کلمت اللہ اور اعزاز دین کا باعث ہے۔غور کریں کہ امت آج جن مصائب کا شکار ہیں کہیں اس کی وجہ یہی اجتماعی جرم تو نہیں؟

افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے فطرت
کرتی نہیں کبھی ملت کے گناہ معاف

ہاں یہی جرم ہے!یہی جرم ہے!
کیوں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
” قریب ہے کہ (کفر کی) قومیں تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دے کر بلائیں گی جس طرح بھوکے ایک دوسرے کو دسترخوان پر دعوت دے کر بلاتے ہیں۔ اس پر ایک پوچھنے والے نے پوچھا کہ کیا اس وقت ایسا ہماری قلتِ تعداد کی وجہ سے ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (نہیں) بلکہ اس وقت تو تم زیادہ تعداد میں ہوگے، لیکن تم سیلابی پانی کے جھاگ کی طرح ہوگے۔ اور اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے ضرور ہی تمہاری ہیبت ختم کردیں گے اور تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دیں گے، تو پوچھنے والے نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کمزوری کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت کو نا پسند کرنا۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں: صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کمزوری کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا دنیا سے محبت کرنا اور تمہارا “کفار سے لڑنے کو ناپسند کرنا”۔
عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ” يوشك الأمم أن تداعى عليكم كما تداعى الأكلة إلى قصعتها “. فقال قائل : ومن قلة نحن يومئذ ؟ قال : ” بل أنتم يومئذ كثير، ولكنكم غثاء كغثاء السيل، ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم، وليقذفن الله في قلوبكم الوهن “. فقال قائل : يا رسول الله، وما الوهن ؟ قال : ” حب الدنيا وكراهية الموت “.》(سنن أبي داود)
《عن أبي هريرة ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لثوبان : ” كيف أنت يا ثوبان إذا تداعت عليكم الأمم كتداعيكم على قصعة الطعام تصيبون منه “. قال ثوبان : بأبي وأمي يا رسول الله، أمن قلة بنا ؟ قال : ” لا، بل أنتم يومئذ كثير، ولكن يلقى في قلوبكم الوهن “. قالوا : وما الوهن يا رسول الله ؟ قال : ” حبكم الدنيا، وكراهيتكم القتال “.》(سنن ابن ماجه)
خود حضور نے فرمادیا کہ تم چونکہ جہاد کو ناپسند کرنے لگو گے اور اس کے نتیجہ میں دنیا کی محبت تمہارے دلوں میں بیٹھ جائے گی اور تم امن امن کا راگ الاپنے میں لگے رہوں گے اس لیے تمہاری یہ حالت ہوگی کہ تعداد تو تمہاری بہت زیادہ ہوگی لیکن تم سمندر کے جھاگ کی طرح ہوں گے، جنہیں چٹکیوں میں مسل دیا جائے۔۔

 


1.
نوٹ: یہاں پر ایک بات یاد رکھنی چاہیئے کہ عام طور پر فقہی کتابوں میں جو بات ملتی ہے کہ ان چار حالاتوں میں عورتوں پر بھی نکل جانا فرض عین ہے در حقیقت مسئلہ ویسا نہیں ہے بلکہ عورت اس سے مستثنی ہے،مطلب نفیرِ عام توہوگی لیکن عورت چونکہ جہاد میں مخاطب نہیں ہوتی ہے اسلیے ترک جہاد پر گنہگار نہیں ہوگی گویا یوں کہاجاسکتاہے عورت ایک درجہ میں مستثنی ہے بشکل لشکر صرف عورتیں نہیں نکلے گی کیونکہ مخاطب نہیں البتہ مردوں کے تحت نکل سکتی ہے اور حضور پاک ﷺ کے دور میں غزوہ تبوک اس کی مثال ہے کہ جہاد میں عدم شرکت سے منافقین پر تو وعیدیں نازل ہوئ لیکن عورتوں پر نہیں نہ ہی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زجروتوبیخ فرمائ جبکہ تبوک فرض عین جہاد تھا اس سے پتہ چلتاہے کہ عورت براہ راست مکلف نہیں ہے۔
العبد الضعیف صلاح الدین –
الشیخ عبد القادر بن عبد العزیز فک اللہ اسرہ العمدۃ فی اعداد العدۃ میں لکھتے ہیں:
قلت: وما ذكره السادة الفقهاء من وجوب الجهاد العيني على المرأة فيه نظر، وقد يَظُن البعض أن هذه المسألة أجمع عليها العلماء أو هي قول جمهور الفقهاء، وليس الأمر كذلك.
فالذين قالوا بوجوب الجهاد على المرأة في كل مواضع الجهاد العيني، أخذوا هذا من القاعدة الفقهية القاضية بأن فروض العين تجب على كل مسلم مكلف (بالغ عاقل) بلا تفريق بين الذكر والأنثى. كما نقلته عن الكاساني من الأحناف والرملي من الشافعية.
إلا أن النصوص الشرعية الخاصة بجهاد النساء تخالف هذه القاعدة ويجب الأخذ بها. وتفصيلها كالتالي:
روى البخاري في كتاب الجهاد من صحيحه (باب جهاد النساء) عن عائشة «استأذنت النبي صلى الله عليه وسلم في الجهاد، فقال جهادكن الحج». قال ابن حجر: [وقال ابن بطال: دل حديث عائشة على أن الجهاد غير واجب على النساء، ولكن ليس في قوله: «جهادكن الحج» أنه ليس لهن أن يتطوعن بالجهاد] ، وفي رواية أحمد بن حنبل عن عائشة قالت: «قلت: يا رسول الله هل على النساء جهاد؟ قال: جهاد لا قتال فيه: الحج والعمرة» ، فهذا الحديث بَيَّن أن المرأة غير مخاطبة بالجهاد بدون تفريق بين ما هو فرض كفاية وما هو فرض عين. وكذلك لم يفرق الشراح (ابن حجر وابن بطال) بين الفرضين في حق النساء.
العمدۃ فی اعداد العدۃ:ص23 للشیخ عبد القادر بن عبد العزیز فک اللہ اسرہ

2.
فقہی کتابوں میں اور ایک صورت ملتی ہے کہ جب کسی مسلمان کو مرد ہو یا عورت کوئی کافر قید کر لیتا ہے تب ان مسلمان کو کفار کے قید سے آزاد کرانے کے لیے بھی جہاد فرض عین ہوتا ہے۔ جیساکہ شہید الامت شیخ دکتور عبد اللہ عزام رحمہ اللہ اپنی مشہور و مقبول کتاب دفاع عن اراض المسلمین میں فرماتے ہیں-:۔
– ۴۔۔ إذا أسر الكفار مجموعة من المسلمين
جب کفار کچھ مسلمانوں کو قید کر لیں ـ
امام عبد اللہ عزام رحمہ اللہ دوسری جگہ فرماتے ہیں:
امام ابن العربی رحمہ اللہ ’’احکام القرآنمیں فرماتے ہیں :۔
وقد تكون حالة يجب فيها نفير الكل اذا تعين الجهاد على الأعيان بغلبةالعدو على قطرمن الاقطار او لحلو له بالعقر فيجب علي كآفة الخلق الجهاد و الخروج، فان قصرواعصوا.
فإذا كان النفير عاما لغلبة العدو علي الحوزة أو استيلائه على الأسارى كان النفير عاما ووجب الخروج خفافا وثقالا، ركبانا و رجالا، عبيدا و أحرارا….،
من كان له أب من غير اذنه ومن لا أب له، حتي يظهر دين الله و تحمي البيضة وتحفظ الحوزة ويخزى العدو و يستنفذ الأسرىٰ ولا خلاف فى هذا.
فكيف يصنع الواحد إذا قعد الجميع؟ يعمد إلى أسير واحد فيفديه و يغزو بنفسه إن قدرو إلا جهز غازيا.
’’ترجمہ :۔ ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جب نفیر عام (ہر ایک کا نکلنا) فرض ہو جائے ـ لہذا دشمن جب مسلمانوں کی سر زمین پر حملہ آور ہو یا انکے کسی علاقے کو گھیر لے تو جہاد تعین کے ساتھ ہر ایک پر فرض ہوجاتاہے اور تمام لوگوں کے لیئے جہاد کرنا اوراس کی خاطر گھروں سے نکلنا لازم ہوجاتاہے ـ ایسے میں اگر وہ ادائیگئی فرض میں کوتاہی کریں تو گناہ گار ہوں گے ـ
پس اگر نفیر عام کا حکم اس وجہ سے ہو کہ دشمن ہمارے کسی علاقے پر قبضہ کرلے یا مسلمانوں کو پکڑ کر قیدی بنالے تو سب لوگوں پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ جہاد کے لیئے نکلیں، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، سوار ہو پیدل، غلام ہو آزاد ….جس کے والد زندہ ہو وہ انکی اجازت کے بغیر نکلے اور جسکے والد فوت ہو چکے ہوں وہ بھی نکلے، (اور جھاد کرتارہے) یہاں تک کہ؛
اللہ کا دین غالب ہوجائے، مسلمانوں کی سرزمین سے دشمن کا شر دور ہوجائے،اسلامی سر حدیں محفوظ ہوجائیں، دشمن رسواہوجائے سارے مسلمان قیدی آزار ہوجائیں…اور اس بارے میں علماءکے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ـ
لیکن(سوال یہ ہے کہ) اگر سب لوگ ہی جہاد جھوڑ کر بیٹھے رہیں تو اکیلا بندہ کیا کرے؟
اسے چاہئیے کہ وہ؛ کوئی قیدی تلاش کرے اور پیسے دیکر اسے آزاد کرائے، اور اگر قدرت رکھتا ہے تو اکیلاہی قتال کرے اور اگر اسکی بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو کسی اور مجاہد کو تیار کرے اور اسے سامان فراہم کرے ـ
(احکام القرآن: ۹۴۵/۲)

وما علينا إلا البلاغ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button